م اس وقت کیاکرو گے جب دنیا کے یہ لباس جن میں لپٹے ہئے ہ
تم سے اتر جائیں گے .یہ دنیا جو اپنی سج دھج کی جھلک دکھاتی
اور اپنے خط وکیف سے ورغلتی ہے .جس نے تمہیں پکار ا تو تم نے
لبیک کہی اس نے تمہیں کھینچا تو تم اس کے پیچھے ہ لیے اوراس نے
تمہیں حکم دیا تو تم نے اس کی پیروی کی .وہ وقت دور نہیں کہ
بتانے وال تمہیں ان چیزوں سے آگاہ کرے کہ جن سے کو ئی سپر
تمہیں بچانہ سکے گی .
لہ\ذ ا اس دعوی\ سے باز آجاؤ .حساب و کتا ب کا سروسامان کرو
اور آنے والی موت کے لیے دامن گردان کر تیار ہجاؤ ,اورگمراہں
کی باتوں پر
کا ن نہ دھرو .اگر تم ایسا نہ کیا تو پھر میں تمہاری عقلوں پر
)جھنجھوڑ کر (تمہیں متنبہ کروں گا,تم عیش وعشرت میں پڑے ہ ,
شیطان نے تم میں پانی گرفت مضبوط کر لی ہے .وہ تمہارے بارے میں
اپنی آرزوئیں پوری کر چکا ہے اور تمہارے اندر روح کی طرح
سرایت کر گیا اورخون کی طرح )رگ و پے میں (دوڑرہا ہے .
Presented by www.ziaraat.comاے معاویہ! بھل تم لوگ )امیہ کی اولد (کب رعیت پر حکمرانی کی
صلحیت رکھتے تھے ,اور کب امت کے امور کے والی و سر
پر ست تھے ?بغیر کسی پیش قدمی اور بغیر کسی بلند عزت و منزلت
کے ہم دیرینہ بدبختیوں کے گھر کر لینے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں
میں اس چیز پر تمہیں متنبہ کئے دیتا ہں کہ تم ہمیشہ آرزوؤں کے
فریب پر فریب کھاتے ہ اورتمہارا ظاہر باطن سے جدا رہتا ہے.
تم نے مجھے جنگ کے لیے للکارا ہے تو ایساکرو ک لوگو ں کو ایک
طرف کر دو اور خود )میرے مقابلے میں (باہر نکل آؤ .دونوں فریق کو
کشت و خون سے معا ف کرو تاکہ پتہ چل جائے کہ کس کے دل پر
زنگ کی تہیں چڑھی ہئیں اورآنکھوں پر پردہ پڑا ہا ہے .میں
)کوئی اور نہیں(وہی ابو الحسن ہں کہ جس نے تمہارے نانا
1#,تمہارے ماموں 2#اور تمہارے بھائی کے پرخچے اڑا کر بدر کے دن
مارا تھا وہی تلوار اب بھی میرے پاس ہے اور اسی دل گردے کے ساتھ
اب بھی دشمن سے مقابلہ کرتاہںنہ میں نے کوئی دین بدل ہے .نہ
کو ئی نیا نبی کھڑا کیا ہے اور میں بلشبہ اسی شاہراہ پر ہں جسے
تم نے اپنے اختیار سے چھو ڑ رکھا تھا اور پھر مجبوری سے اس میں
داخل ہئے .اور تم ایسا ظاہر کرتے ہکہ تم خون عثمان کا بدلہ لینے
کو اٹھے ہ حالنکہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کا خون کس
کے سر ہے اور اگر واقعی بدلہ ہی لینا مقصود ہے تو انہی سے لو اب
3#تو وہ )آنے وال (منظر میری آنکھوں میں پھررہا ہے کہ جب جنگ
تمہیں دانتوںسے کاٹ رہی ہگی ا ور تم اس طرح بلبلتے ہگے
جس طرح بھاری بوجھ سے اونٹ بلبلتے ہیں .اور تمہاری جماعت
تلواروں کی تابڑ توڑ مار ,سر پر منڈلنے والی قضا اور کشتیوں کے
Presented by www.ziaraat.comپشتے لگ جا نے سے گھبرا کر مجھے کتا ب خدا کی طرف دعوت
دے رہی ہگی .حالنکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کافر اور حق کے
منکر ہیں یا بیعتکے بعد اسے توڑدینے والے ہیں.
#1عتبہ بن ربیعہ 2#ولید بن عتبہ 3#حنطلہابن ابی سفیان
#1امیرالمومنین علیہ السلم کی یہ پیشن گوئی جنگ صفین کے متعلق ہے جس میں مختصر سے لفظوں میں اس کا پو
را منظر کھینچ دیا ہے . چنانچہ ایک طرف معاویہ عراقیوں کے حملوں سے حواس باختہ ہ کر بھاگنے کی سوچ رہا تھا
اور دوسری طرف اس کی فوج موت کی پیہم پورش سے گھبرا کر چل رہی تھی اور آخر کار جب بچاؤ کی کو ئی
صورت نظر نہ آئی .تو قرآن نیزو ں پر اٹھا کر صلح کا شور مچادیا اور اس جبلہ سے بچے کھچے لوگوں نے اپنی جان
بچائی . اس پیشن گوئی کو کسی قیاس و تخمین یا واقعات سے اخذ نتائج کا نتیجہ نہیں قرار دیا جاسکتا اور نہ ان جز
ئی تفصیلت کا فراست و دور رس بصیرت سے احاطہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ان پر سے وہی پردہ ہٹا سکتا ہے ,جس کا
ذریعہ اطلع پیغمبر کی زبان وحی ترجمان ہ یا القائے ربانی .
No comments:
Post a Comment