Sunday, 10 July 2011

9 مکتوب معاویہ کے نام :

ہماری قوم )قریش(نے ہمارے نبی کو قتل کرنے اور ہماری جڑ اکھاڑ
پھینکنے کا ارادہ کیا اور ہمارےلیے غم و ابدوہ کے سرو سامان کئے ,
اور برے برتاؤ ہمارے ساتھ روا رکھے .ہمیں  آرام و را حت سے روک
Presented by www.ziaraat.comدیا اور مستقل طور پر خوف و دہشت سے دو چار کر دیا اور ایک
سنگلخ و ناہموار پہاڑ میں  پناہ لینے پر مجبور کردیا اور ہمارے لیے
جنگ کی آگ بڑکا دی مگر اللہ نے ہماری ہمت باندھی کہ ہم پیغمبر
کے دین کی حفاظت کریں اور ان کے دامن حرمت پر آنچ نہ آنے دیں .
ہمارے مومن ان سختیوں کی وجہ سے ثواب کے امید وار تھے .اور
ہمارے کافر قرابت کی بنائ پر حمایت ضروری سمجھتے تھے .اور
قریش میں  جو لو گ ایمان لئے تھے وہ ہم پر آنے والی مصیبتوں سے
کوسوں دور تھے اس عہد و پیمان کی وجہ سے کہ جو ان کی
حفاظت سے کرتا تھا یا اس قبیلے کی وجہ سے کہ اب کی حفاظت
کو اٹھ کھڑا ہ تا تھا لہ\ذا وہ قتل سے محفوظ تھے اور رسالت
مآب کا یہ طریقہ تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑ کتے تھے اور لوگو
ں کے قدم پیچھے ہٹنے لگتے تھے تو پیغمبر اپنے اہل بیتکوآگے بڑھا دیتے
تھے اور یوںانہیں سینہ سپر بنا کر اصحاب کو نیزہ و شمشیر کی مار
سے بچا لیتے تھے .چنانچہ عبیدہ ابن حارث بدر میں  ,حمزہ احد میں
اور جعفر جنگ موتہ میں  شہید ہ گئے ایک اور شخص نے بھی کہ
اگر میں  چاہں تو اس کا نام لے سکتا ہ ں .انہیں لو گوں کی طرح
شہید ہ نا چاہا .لیکن ان کی عمریں جلد پوری ہ گئیں اور اس کی
موت پیچھے جا پڑی .اس زمانہ )کج رفتار(پر حیرت ہتی ہے کہ
میرے ساتھ ایسوں کانام لیا جاتا ہے .جنہوں نے میدان سعی میں  میری
سی تیز گامی کبھی نہیں دکھائی اور نہ ان کے لیے میرے ایسے دیرینہ
اسلمی خدمات ہیں ایسے خدمات کہ جن کی کوئی مثال پیش نہیں
کرسکتا .مگر یہ کہ کو ئی مدعی ایسی چیز کا دعوی\ کربیٹھے کہ
جسے میں  نہیںجانتا ہ ں اور میں  نہیں سمجھتا کہ اللہ اسے جانتا
Presented by www.ziaraat.comہگا )یعنی کچھ ہ تو وہ جانے(بہر حال اللہ تعالی\ کا شکر ہے .
اے معاویہ ! تمہارا یہ مطابعہ جو ہے کہ میں  عثمان کے قاتلوں کو
تمہارے حوالے کر دو ں تومیں  نے اس کے ہر پہلو پر غور و فکر کیا
اوراس نتیجہ پر پہنچا ہں کہ انہیں تمہارے یا تمہارے علوہ کسی اور
کے حوالے کرنا میرے اختیار سے باہر ہے ,اور میری جا ن کی قسم !
اگر تم اپنی گمراہی اور انتشار پسندی سے باز نہ آئے تو بہت جلد ہی
انہیں پہچان لو گے وہ خود تمہیں ڈھونڈتے ہئے آئیں گے اور تمہیں
جنگلوں,دریاؤں ,پہاڑوں اور میدانوں میں  ان کے ڈھونڈنے کی زحمت
نہ دیں گے .مگر یہ ایک ایسا مطلوب ہگا ,جس کا حصول تمہارے
لیے نا گواری کا باعث ہ گا اور وہ آنے والے ایسے ہں گے جن کی
ملقات تمہیں خوش نہ کر سکے گی .سلم اس پر جو سلم کے لئق
ہ .
#1جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوت توحید دینے پرمامور ہئے تو کفر و عصیان کی طاقتیں اعلن حق
کی راہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑی ہئیں اور قبائل قریش جبر وتشدد سے اس آواز کو دبانے کے درپے ہگئے .ان منکرین
کے دلوں میں  اپنے خود ساختہ معبودوں کی محبت اس قدر راسخ ہ چکی تھی کہ وہ ان کے خلف ایک لفظ بھی
سننے کے لیے تیار نہ تھے .ان کے سامنے ایک خد'<اکا نظریہ پیش کرنا ہی ان کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھا
.چہ جائیکہ انہوں ن'<ے اپنے بتوں کے متعلق ایسے کلمات سنے جوانہیں ایک سنگ بے شعور سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے
.جب اس طرح انہیں اپنے اصول و عقائد خطرہ میں  نظر آئے تو وہ پیغمبر کی اذیت پر کمر بستہ ہگئے . اور اپنے
ترکش کے ہر تیر کو آزمانے کے لیے میدان میں  اترآئے اور اس طرح ایذا رسانی کے وسائل کام میں  لئے کہ آپ کو
گھرسے قدم باہر نکالنا مشکل ہگیا .اس دور میں  جو گنتی کے چند افراد ایمان لئے تھے ,انہیں بھی مسلسل و پیہم
وآزمائشوں سے دو چار ہ نا پڑ ا.چنانچہ ان پرستاران توحید کو جلتی ہئی دھوپ میں  زمین پر لٹادیا جاتا اور
پتھروں اور کوڑوں سے اتنا مار اجاتا کہ ان کے بدن لہو لہا ن ہ جاتے. جب قریش کے مظالم اس حد تک بڑھ گئے تو
پیغمبر نے بعثت کے پانچویں سال انہیں مکہ چھوڑکر حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کی اجازت دی.
قریش نے یہاں بھی ان کا پیچھا کیا مگر حبشہ کے فرمانروا نے انہیں ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا .اور اپنی عدل
گستری و انصاف پرور ی سے ان پر کوئی آنچ نہ آنے دی .ادھر پیغمبر کی تبلیغ برابر جاری تھی ,اورحق کی کشش و
Presented by www.ziaraat.comتاثیر اپنا کام کر رہی تھی اور لوگ اسلم کی تعلیم اورآپ کی شخصیت سے متاثر ہ کرآپ کے دامن سے وابستہ ہ
تے جارہے تھے جس سے قریش انگاروں پر لوٹتے ,اند ر ہی اندر پیچ و تاب کھاتے اور اس بڑھتی ہ ئی تاثیر و نفوذکو
روکنے کی کوشش کرتے .مگر جب ان کے لیے کچھ نہ ہ سکا تو یہ طے کیا کہ بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب سے تمام
تعلقات قطع کر لیے جائیں.نہ ان سے میل جول رکھا جائے اور نہ ان سے لین دین کیا جائے تاکہ وہ تنگ آکر پیغمبرکی
حمایت سے دستبردار ہجائیں .اور پھر وہ جیسا چاہیں ان کے ساتھ برتاؤ کریں چنانچہ ان میں  باہمی معاہدہ ہا ,اور
اس سلسلہ میں  ایک دستاویز لکھ کر محفوظ کر دی گئی .اس معاہدہ کے بعد اگر چہ زمین وہی تھی اور زمین پر بسنے
والے بھی وہی تھے مگر بنی ہاشم کے لیے درو دیوارسے اجنبیت برسنے لگی .جانی پہچانی ہئی صورتیں یوں نظر آنے
لگیں جیسے کبھی شناسائی تھی ہی نہیں سب نے رخ موڑ لیے ,اور میل ملقات اور راہ و رسم بندی کر دی.ان حالت
میں  یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں پیغمبر پر اچانک حملہ نہ ہجائے اس لیے شہر سے باہر پہاڑ کی ایک تنگ گھاٹی میں
کہ جسے شعب ابو طالب کہا جاتا ہے پناہ لینے پر مجبور ہئے.اس موقع پر بنیہاشم میں  سے جو ابھی تک ایمان نہ لئے
تھے ,وہ خاندانی اتحاد کی بنا ئ پر آپکے دکھ در دمیں شریک ہ تے اورآڑے وقت پر سینہ سپر ہ کر کھڑے ہجاتے
اور جو ایمان لچکے تھے ,جیسے حضرت حمزہ و حضرت ابو طالب ,وہ اپنا فریضہ ئایمانی سمجھ کر آپ کی
حفاظت میں  سر گرم عمل رہتے .خصوصا †حضرت ابو طالب نے اپنا سکون و آرام سب چھوڑ رکھا تھا .ان کے دن
پیغمبر کو تسکین دینے اور راتیں پہرا دینے اورپیغمبرکی خواب گاہ بدلوانے میں گزرتی تھیں .ا س طرح کہ جس بستر پر
ایک رات پیغمبر آرام فرماتے ,دوسری رات ا س بستر پر علی علیہ السلم  کو سل دیتے کہ اگر کو ئی حملہ کرے تو
آنحضرت کے بجائے علی علیہ السلم کام میں  آجائیں:
یہ دور بنی ہاشم کے لیے انتہائی مصائب و آلم کا دور تھا .حالت یہ تھی کہ ضروریات زندگی ناپیداور معیشیت کے
تمام دروازے بند ہچکے تھے .درختوں کے پتوں سے پیٹ بھرلیے ,تو بھر لیے ورنہ فاقوں میں  پڑے رہے جب اس طر ح
تین برس قید و بند کی سختیاں جھیلتے گزر گئے.تو زبیر ابن ابی امیہ ,ہشام ابن عمرو ,مطعم ابن عدی,ابو البختری اور
زمعہ ابن اسود نے چاہا کہ اس معاہدہ کو توڑ دیں .چنانچہ اکابر قریش خانہ کعبہ میں  مشورہ کے لیے جمع ہئے .ابھی
کچھ طے نہ کرنے پائے تھے کہ حضرت ابو طالب بھی شعب سے نکل کر ان کے مجمع میں  پہنچ گئے اور ان سے کہا کہ
میرے بھتیجے م ابن عبداللہ نے مجھے بتایا ہے کہ جس کاغذ پر تم نے معاہدہ تحریرکیا تھا .اسے دیمک نے چاٹ لیا ہے
اور اب اس پر اللہ کے نام کے علوہ کچھ نہیں رہا .لہ\ذا تم اس دستاویز کو منگوا کر دیکھو .اگر انہوں نے سچ کہا ہے تو
تمہیں ان کی دشمنی سے دستبردار ہنا چاہیے .اور اگر غلط کہا ہے تو میں  انہیں تمہارے حوالے کرنے کو تیار ہں .
چنانچہ اس دستاویز کو منگوا کر دیکھا گیا تو واقعی .باسمک ال‹لھمکے علوہ'< کہ جو دور جاہلیت میں سرنامہ کے
طور پر لکھا جاتا تھا .تمام تحریر دیمک کی نذر ہ چکی تھی .یہ دیکھ کر مطعم ابن عدی نے اس تحریر کو پارہ پارہ
کر دیا ,اور وہ معاہدہ توڑ دیا گیا اور خداخدا کر کے بنیہاشم کو اس مظلومیت و بیکسی کی زندگی سے نجات ملی ,
لیکن اس کے بعد بھی پیغمبر کے ساتھ رویہ میں  سرمو فرق نہ آیا .بلکہ وہ بغض و عناد میں  اس طرح کھو گئے کہ ان
کی جان لینے کی تدبیریں کرنے لگے جس کے نتیجہ میں  ہجرت مدینہ کا واقعہ ظہور میں  آیا .اس موقع پر اگرچہ
Presented by www.ziaraat.comحضرت ابو طالب زندہ نہ تھے مگر علی ابن ابی طالب نے پیغمبر کے بستر پر لیٹ کر ان کی یاد دلوں میں  تازہ کر دی ,
کیونکر یہ انہیں کا دیا ہ ا اور س تھا کہ جس سے پیغمبر کی حفاظت کا سروسامان کیا جاتا تھا .
یہ واقعات اگرچہ معاویہ سے مخفی نہ تھے .مگر چونکہ اس کے سامنے اس کے اسلف کے کارناموں کو رکھ کر اس
کی معاندانہ روح کو جھنجھوڑنا مقصود تھا .اس لیے قریش و بنی عبد شمس کی ان ایذا رسانیوں کی طرف اسے توجہ
دلئی ہے کہ وہ عہد نبوی کے پرستاران حق اور پر ستاران باطل کی روشنی کو دیکھتے ہئے یہ غور کرے کہ وہ حق پر
چل رہا ہے یا اپنے اسلف کے نقش قدم پر گامزن ہے .

No comments:

Post a Comment