Sunday, 10 July 2011

3 مکتوب دستا ویز جو آپ نے شریح ابن حارث قاضی کوفہ کے لیے تحریر فر مائی

روایت ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلم  کے قاضی شریح ابن حارث
نے آپ کے دور خلفت میں  ایک مکان اسی 08دینار کو خرید کیا .
حضر ت کو اس کی خبر ہئی تو انہیں بلوا بھیجا اور فرمایا مجھے
اطل ع ملی ہے کہ تم نے ایک مکان اسی 08 دینار کو خرید کیا ہے اور
دستاویز بھی تحریر کی ہے اور اس پر گواہں کی گواہی بھی ڈلوائی
ہے ?شریح نے کہا کہ جی ہا ں یاامیر المومنین علیہ السلم ایسا ہا تو
ہے .)راوی کہتا ہے(اس پر حضرت علیہ السلم  نے انہیں غصہ کی نظر
سے دیکھا اور فرمایا :دیکھو !بہت جلد ہی وہ )ملک الموت (تمہارے
پاس آجائے گا جو نہ تمہاری دستاویز دیکھے گا اور نہ تم سے
گواہں کو پوچھے گا اور وہ تمہارا بوریا بستر بندھوا کر یہاں سے
نکال باہر کرے گا اور قبر میں  اکیل چھوڑ دے گا .اے شریح دیکھو !
ایسا تو نہیں کہ تم نے اس گھر کو دوسرے کے مال سے خریدا ہ ,یا
حرام کی کمائی سے قیمت ادا کی ہ .ایسا ہ ا تو سمجھ لو تم نے
دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی . دیکھو ! ا س کی خریداری کے
وقت تمہارے لیے ایک ایسی دستاویز لکھ دیتا .کہ تم ایک درہم بلکہ
اس سے کم کوبھی اس گھر کے خریدنے کو تیار نہ ہتے .
وہ دستاویز یہ ہیں:
یہ وہ ہے جو ایک ذلیل بند ے نے ایک ایسے بند ے سے کہ جو سفر
Presented by www.ziaraat.comآخرت کے لیے پادر رکاب ہے خرید کیا ہے .ایک ایسا گھر کہ جو
دنیائے پر فریب میں مرنے والوں کے محلے اور ہلک ہنے والوں کے
خطہ میں  واقع ہے جس کے حدود اربعہ یہ ہیں.پہلی حد آفتوں کے
اسباب سے متصل ہے ,دوسری حد مصیبتوں کے اسباب سے ملی ہئی
ہے ,تیسری حد ہلک کرنے والی نفسانی خواہشوں تک پہنچتی ہے اور
چوتھی حد گمراہ کرنے والے شیطان سے تعلق رکھتی ہے .اور اسی حد
میں  اس کا دروازہ کھلتا ہے .اس فریب خوردہ امید و آرزو نے اس
شخص سے کہ جسے موت دھکیل رہی ہے اس گھر کو خریدا ہے اس
قیمت پر کہ اس نے قناعت کی عزت سے ہاتھ اٹھایا اور طلب و
خواہش کی ذلت میں  جا پڑا .اب اگراس سودے میں  خریدار کو
کوئی نقصان پہنچے تو بادشاہں کے جسم کو تہ و بال کرنے والے
گردن کشوں کی جان لینے والے ,اور کسری\1#,قیصر اور تبع و حمیر
ایسے فرمانرواؤں کی سلطنتیں الٹ دینے والے ,اور مال سمیٹ سمیٹ
کر اسے بڑھانے اونچے اونچے محل بنانے سنوارنے انہیں فرش و فروش
سے سجانے اور اولد کے خیال سے ذخیر ے فراہم کرنے والے اور
جاگیریں بنانے والوں سے سب کچھ چھین لینے والے کے ذمہ ہے کہ وہ
ان سب کو لے جاکر حساب و کتاب کے موقف اور عذاب وثواب
کے محل میں  کھڑا کرے .اس وقت کہ جب حق و باطل والے وہاں
خسارے میں  رہیں گے .
گواہ شد برایں عقل:جب خواہشوں کے بندھن سے الگ اور دنیا کی
وابستگیوں سے آزا دہ.
#1کس \ ری ,خسرو کا معرب ہے جس کے معنی اس بادشاہ کے ہتے ہیں جس کا دائرہ مملکت وسیع ہیہ سلطین
عجم کا لقب تھا اور قیصر شاہان روم کا لقب ہے جو رومی زبان میں  اس بچے کے لیے بولجاتا ہے جس کی ماں جننے
Presented by www.ziaraat.comسے پہلے مرجائے اور اس کا پیٹ چیر کر بچے کو نکال جائے چونکہ شاہان روم میں  افسطوس اسی طرح پیدا ہاتھا .
اس وجہ سے وہ اس نام سے مشہور ہگیا اورپھر وہاں کے ہر بادشاہ کے لیے اس نے لقب کی صور ت اختیار کرلی .
حمیر یمن کے بادشاہں کالقب ہے .اس حکومت کا بانی حمیر ابن سباتھا .جس نے یمن میں  اپنی سلطنت کی بنیا د
رکھی اور پھر اس کی اولد نسل†بعد نسل تخت و تاج کی وارث ہتی رہی .لیکن کچھ عرصہ کے بعد اکسومی
حبشیوں نے یمن پر حملہ کر کے حکومت ان کے ہاتھ سے چھین لی.مگر انہوں نے محکومیت اور ذلت کی زندگی
گوارا نہ کی اور اپنی منتشر و پرا گند ہ قوتوں کو یکجاکر کے اکسومیوں پر حملہ کر دیا اور انہیں شکست دے کر
دوبارہ اقتداار حاصل کر لیا اور یمن کے ساتھ حضرموت ,حبشہ اور حجاز پر بھی اپنی حکومت قائم کر لی .یہ
سلطین حمیر کا دوسرا دور تھا .جس میں  پہل بادشاہ حارث الرائش تھا جو تبع کے لقب سے تخت حکومت پر بیٹھا
اور پھربعد کے سلطین اسی لقب سے پکارے جانے لگے .تبع کے معنی سامی زبان میں  متبوع و سردا ر کے ہیں اور بعض
کے نزدیک یہ حبشی زبان کی لفظ صاحب تسلط و اقتدار ہیں

No comments:

Post a Comment