اگر وہ اطاعت کی چھاؤں میں پلٹ آئیں تو یہ تو ہم چاہتے ہی ہیں
اور اگر ان کی تانیں بس بغاوت اور نافرمانی پرہی ٹوٹیں .تو تم
فرمانبرداروں کو لے کر نافرمانوں کی طرف اٹھ کھڑے ہ .اور جو
تمہارا ہمنواہ کر تمہارے ساتھ ہے اس کے ہتے ہئے منہ موڑنے
والوں کی پروا نہ کرو .کیونکہ جو بددلی سے ساتھ ہ اس کا نہ ہ
نا ہنے سے بہتر ہے ,اور اس کا بیٹھے رہنا ا س کے اٹھ کھڑ ے ہنے سے
زیادہ مفید ثابت ہسکتا ہے.
#1جب عامل بصرہ عثمان ابن حنیف نے امیرالمومنین علیہ السلم کو طلحہ و زبیر کے بصرہ پہنچنے کی اطلع دی اور
ان کے عزائم سے آگاہ کیا,تو حضرت نے یہ خط ان کے نام تحریر کیا جس مین انہیں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اگر دشمن
لڑائی پر اتر آئے تو وہ اس کے مقابلے کے لیے ایسے لوگو ں کو اپنے ساتھ نہ لیں کہ جو ایک طرف حضرت عائشہ اور
طلحہ وزبیر کی شخصیت سے متاثر ہں اور دوسری طرف کہنے سننے سے ان کے خلف جنگ پر بھی آمادہ ہگئے
ہں .کیونکہ ایسے لوگوں سے جم کر لڑ نے کی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان پر بھروسا کیا جاسکتا ہے .بلکہ
Presented by www.ziaraat.comایسے لوگ اگر موجود رہے تو دوسروں کو بھی بد دل بنانے کی کوشش کریں گے .لہ\ذا ایسے لوگوں کو نظر انداز کر
دینا ہی مفید ثا بت ہ سکتا ہے
No comments:
Post a Comment