Sunday, 10 July 2011

11 ہدایت دشمن کی طرف بھیجے ہئے ایک لشکر کو یہ ہدایتیں فرمائیں .

جب تم دشمن کی طرف بڑھو یا دشمن تمہاری طرف بڑھے تو
تمہارا ٹیلوں کے آگے یا پہاڑ کے دامن میں  یا نہروں کے موڑ میں  ہنا
چاہیے تاکہ یہ چیز تمہارے لیے پشت پناہی اور روک کا کام دے ,
اورجنگ بس ایک طرف یا )زائد سے زائد دوطرف سے ہ(اور پہا
ڑوں کی چوٹیوں اور ٹیلوں کی بلند سطحوں پر دید بانوں کو بٹھا دو
تاکہ دشمن کسی کھٹکے کی جگہ سے یا اطمینان والی جگہ سے
)اچانک(نہ آپڑے اور اس بات کو جانے رہ کہ فوج کا ہر او‹ل دستہ
فوج کا خبر رساں ہتا ہے .اور ہر او‹ل دستے کو اطلعات ان
مخبروں سے حاصل ہتی ہیں )جو آگے بڑھ کر سراغ لگاتے ہیں(
دیکھو تتر بتر ہنے سے بچے رہ ,اتر و تو ایک ساتھ اترو ,اور کوچ
کر و تو ایک ساتھ کرو ,اورجب رات تم پر چھا جائے تو نیزوں کو
)اپنے گرد (گاڑ کر ایک دائرہ سا بنا لو ,صرف اونگھ لینے اور ایک
آدھ جھپکی لے لینے کے سوا نیند کا مز ہ نہ چکھو .
#1جب امیرالمومنین علیہ السلم  نے نخیلہ کی چھاؤنی سے زیادابن نضرحارثی اور شریح ابن ہانی کو آٹھ ہزار اور چار
کے دستے پر سپہ سالر مقرر کر کے شام کی جانب روانہ کیا تو ان دونوں میں  منصب کے سلسلہ میں  کچھ اختل ف
رائے ہ گیا جس کی اطل ع انہوں نے امیرالمومنین علیہ السلم  کو دی اور ایک دوسرے کے خلف شکایت آمیز میں
خطوط لکھے .حضرت نے جواب میں  تحریر فرمایا کہ اگر تم مل کر سفر کرو تو پو ری فوج کا نظم ونسق زیاد ابن
نضر کے ہا تھ میں  ہگا .اور الگ الگ سفر کرو تو جس جس دستے پر تمہیں امیر مقرر کیا گیا ہے اسی کا نظم و انصر
ام تم سے متعلق ہگا .
ا س خط کے ذیل میں  حضر ت نے جنگ کے لیے چند ہدایات بھی انہیں تحریر فرمائے اور علمہ رضی نے صرف ہدایت
وال حصہ ہی اس مقام پر درج کیا ہے .یہ ہدایات نہ صرف اس زمانہ کے طریقہ جنگ کے لحاظ سے نہایت کا رآمد ا ور
مفید ہیں بلکہ اس زمانہ میں  بھی جنگی اصول کی طرف رہنمائی کرنے کے اعتبار سے ان کی افادیت و اہمیت ناقابل
انکار ہے .وہ ہدایات یہ ہیں کہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہ تو پہاڑ وں کے دامنوںاور ندی نالو ں کے موڑوں میں  پڑاؤ
ڈالو .کیونکہ اس صورت میں  نہروں کے نشیب خندق کا اور پہاڑوں کی چوٹیاں فصیل کاکا م دیں گی .اورتم عقب
سے مطمئن ہ کر دوسرے اطراف سے دشمن کا دفاع کر سکو گے دوسرے یہ کہ لڑائی ایک طرف سے ہ یازیادہ سے
زیادہ دو طرف سے کیونکہ فوج کے متعدد محاذوں پر تقسیم ہ جانے سے اس میں  کمزوری کا رونما ہنا ضرور ی
ہے ,اور دشمن تمہاری فوج کے تفرقہ و انتشا رسے فائدہ اٹھا کر کامیابی میں  کوئی دشواری محسوس نہ کرے گا .تیسر
ے یہ کہ ٹیلو ں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پاسبان دستے بٹھا دو ,تاکہ ہ دشمن کے حملہ آور ہنے سے پہلے تمہیں آگاہ
کرسکیں .کیونکہ ایسا بھی ہتا ہے کہ جدھر سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہ تا ہے و ہ ادھر سے آنے کی بجائے دوسری
طرف سے حملہ کر دیتا ہے .لہ\ذا اگر بلندیوں پر پاسبان دستے موجود ہں گے تو وہ دورسے اڑتے ہئے گردوغبار کو
دیکھ کر دشمن کی آمد کا پتہ چللیں گے .چنانچہ ابن الحدید نے اس کا افاد ی پہلو واضح کرنے کے لیے یہ تاریخی
واقعہ نقل کیا ہے کہ جب قحطبہ نے خر اسان سے نکل کر ایک گاؤں میں  پڑاؤ ڈال تو وہ اور خالد ابن بر مک ایک بلند
جگہ پر جابیٹھے .ابھی بیٹھے ہی تھے کہ خالد نے دیکھا کہ جنگل کی طرف سے ہرنوں کی ٹکڑیاں چلی آرہی ہیں .یہ
دیکھ کر اس نے قحطبہ سے کہا کہ اے امیر اٹھیے اورلشکر میں  فورا†اعلن کرایئے کہ وہ صف بندی کرکے ہتھیاروں کو
سنبھال لے .یہ سن کر قحطبہ کھڑا ہا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ مجھے تو کہیں بھی دشمن کی فوج نظر نہیں آتی.
اس نے کہا اے امیریہ وقت باتوں میں  ضائع کرنے کانہیںآپ ان ہرنوں کو دیکھ لیجئے جو اپنے ٹھکانے چھوڑ کرآبادیوں
کی طرف بڑھے چلے آ ر ہے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے عقب میں  دشمن کی فوج چلی آرہی ہے .چنانچہ اس نے
فورا†اپنی فوج کو تیا ر رہنے کاحکم دیا.ادھر لشکر کا تیار ہ ناتھا کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز کانوںمیں  آنے لگی
اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن سر پر منڈلنے لگا اور یہ چونکہ بر وقت مدافعت کا سامان کر چکے تھے اس لیے پورے
طور سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اگر خالد اس بلندی پر نہ ہتا اور اپنی سمجھ بوجھ سے کام نہ لیتا تو دشمن اچانک
حملہ کر کے انہیں ختم کردیتا .چوتھے یہ کہ ادھر ادھر جاسوس چھوڑ دیئے جائیں تاکہ وہ دشمن کی نقل و حرکت اور
اس کے عزائم سے آگا ہ کرتے رہیں اور اس کی سوچی سمجھی ہئی چالو ں کو ناکا م بنا یا جاسکے .پانچویں یہ کہ
پڑاؤ ڈالو .تو ایک ساتھ اور کوچ کرو تو ایک ساتھ تاکہ دشمن ا س پراگندگی و انتشار کی حالت میں  تم پر حملہ
کرکے بآسانی قابو نہ پاسکے .چھٹے یہ کہ رات کو اپنے گردنیزے گاڑکر حصار کھینچ دو تاکہ اگر دشمن شب خون
مارے تو اس کے حملہ آور ہتے ہی تم اپنے ہتھیارو ںکو اپنے ہاتھوں میں  کے سکو .اور اگر دشمن تیر بارانی کرے تو
اس کے ذریعہ سے کچھ بچاؤ ہسکے .ساتویں یہ کہ گہری نیند نہ سوؤ کہ دشمن کی آمد کا تمہیں پتہ ہی نہ چل سکے
اور وہ تمہارے سنبھلتے سنبھلتے تمہیں گزند پہنچانے میں  کامیاب ہ جائے.

No comments:

Post a Comment