جن لوگوں نے ابو بکر ,عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی انہوں نے
میرے ہاتھ پر اسی اصول کے مطابق بیعت جس اصول پر وہ ان کی
بیعتکر چکے تھے اورا س کی بنا پر جو حاضر ہے اسے پھرنظر ثانی کا
حق نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہ,اسے ر د کر نے کا اختیار نہیں
اور شوری\ کا حق صرف مہاجرین وانصار کو ہے ,وہ اگرکسی پر ایکا
کریں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی خوشنودی
سمجھی جائے گی .اب جو کوئی اس کی شخصیت پر اعتراض یا نیا
نظریہ اختیار کرتا ہ الگ ہ جائے تو اسے وہ سب اسی طرف واپس
لئیں گے جدھر سے وہ منحرف ہ اہے اور اگر انکار کر ے تو ا س
سے لڑیں کیونکہ وہ مومنوں نے طریقے سے ہٹ کر دوسری راہ پر
ہلیا ہے اور جدھر وہ پھر گیا ہے اللہ تعالی\ بھی اسے ادھرہی پھیر دے
گا .
اے معاویہ ! میری جان کی قسم اگر تم اپنی نفسانی خواہشوں سے
دور ہ کر عقل سے دیکھو تو سب لو گو ں سے زیادہ مجھے عثمان
کے خون سے بری پاؤ گے مگر یہ کہ تم بہتان باندھ کر کھلی ہئی
چیزوں پر پردہ ڈالنے لگو .
والسلم.
#1جب امیرالمومنین علیہ السلم کے ہاتھ پر تمام اہل مدینہ نے بال تفاق بیعتکرلی ,تو معاویہ نے اپنے اقتدارکو خطرہ میں
محسوس کرتے ہئے بیعت سے انکار کر دیا اورآپ کی خلفت کی صحت کو محل نظر قرار دینے کے لیے یہ عذر
تراشا کہ یہ عمومی انتخاب سے قرار نہیں پائی . لہ\ذاا س انتحاب کو مسترد کر کے دوبارہ انتخاب عام ہ نا چاہیے .
حالنکہ جس خلفت سے اصول انتخاب کی بنیاد پڑی ,وہ ایک ناگہانی صورت حال کا نتیجہ تھی جس میں عام افراد
Presented by www.ziaraat.comکی رائے وہندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہتا .کہ اسے عمومی اختیار کا نتیجہ کہا جاسکے .البتہ عوام پر اس کی پابندی
عائد کر کے اسے فیصلہ جمہوریہ - سے تعبیر کر لیا گیا جس سے یہ اصول قرار پا گیا کہ جسے اکابر مدینہ منتخب کر
لیں وہ تمام دنیائے اسل م کا نمائندہ متصور ہ گا .اور کسی کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہ ہ گی .خواہ
وہ انتخاب کے موقع پر موجو د ہ یا موجود نہ ہ .بہر صورت اس اصول کے قرار پا جانے کے بعد معاویہ کو یہ حق نہ
پہنچتا تھا کہ وہ دوبارہ انتخاب کی تحریک یا بیعتسے انکار کرے .جبکہ وہ عملی طور پر ان خلفتوں کو صحیح
تسلیم کر چکا تھا کہ جن کے متعلق یہ دعوی\ کیا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کے اہل حل و عقد نے طے کی تھیں .چنانچہ جب
اس نے اس انتخاب کو غلط قرار دیتے ہئے بیعتسے انکا ر کیا ,تو امیرالمومنین علیہ السلم نے اصول انتخاب کو اس کے
سامنے پیش کرتے ہئے اس پر حجت تمام کی اوریہ وہی طرز کلم ہے جسے فرض الباطل مع الخصم حتی\ تلزمہ الحجد
)حریف کے سامنے اس کے غلط مسلمات کو پیش کر کے اس پر حجت قائم کرنا (سے تعبیر کیا جاتا ہے کیو نکہ کسی
مرحلہ پر امیرالمومنین علیہ السلم نے خلفت کی صحت کا معیار شوری\ اور رائے عامہ کو نہیں سمجھا ورنہ جن
خلفتوں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مہاجرین و انصار کے اتفاق رائے سے قرار پائی تھیں.آپ اس رائے عامہ کو حجت
و سند سمجھتے ہئے ان کو صحیح و درست سمجھتے .مگر آپ کا دور اول ہی سے بیعت کا انکار کردینا کہ جس
سے کسی کوانکار نہیں ہ سکتا ,اس کی دلیل ہے کہ آپ ان ساختہ اصولوں کو خلفت کا معیار نہ سمجھتے تھے .اس
لیے آپ ہر دور میں اپنے استحقاق خلفت کو پیش کرتے رہے جو رسول اللہ سے قول و عمل ثابت تھا .مگر معاویہ کے
مقابلہ میں اسے پیش کرنا سوال و جواب کا دروازہ کھول دینا تھا.اس لیے اسی کے مسلمات و معتقدات سے اسے قائل
کر نا چاہا ہے تاکہ اس کے لیے تاویلت کے الجھا دے ڈالنے کی گنجائش باقی نہ رہے .ورنہ وہ تو یہ چاہتا ہی تھاکہ کسی
طرح بات بڑھتی جائے تاکہ کسی موڑ پر ا س کے متزلزل اقتدار کو سہارا مل جائے
No comments:
Post a Comment