Sunday, 10 July 2011

5 مکتوب اشعث ابن قیس والی آذر بائیجان کے نام:..

یہ عہدہ تمہارے لیے کو ئی آزوقہ نہیں ہے بلکہ وہ تمہاری گردن میں
ایک امانت کا پھندا ہے اور تم اپنے حکمران بال کی طرف سے
حفاظت پر مامور ہ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ رعیت کے معاملہ
میں  جو چاہ کر گزرو خبردار!کسی مضبوط دلیل کے بغیر کسی
بڑے کام میں  ہاتھ نہ ڈال کرو .تمہارے ہاتھوں میں  خدائے بزرگ و
برتر کے اموال میں  سے ایک مال ہے اور تم اس وقت تک سا کے
خزانچی ہ جب تک میرے حوالے نہ کردو .بہرحال میں  غالبا†تمہارے
لیے بر احکمران تو نہیں ہں .والسلم .
#1جب امیرالمومنین علیہ السلم  جنگ جمل سے فارغ ہ ئے تو اشعث ابن قیس کو جو حضرت عثمان کے زمانے سے
آذر بائیجان کا عامل چل آرہا تھا تحریر فرمایا کہ وہ اپنے صوبے کا مال خراج و صدقات رو انہ کر ے مگر چونکہ اسے
اپنا عہدہ و منصب خطرہ میں  نظر آرہا تھا.اس لیے وہ حضرت عثمان کے دوسرے مال کی طرح اس مال کو ہضم کرجانا
چاہتا تھا چنانچہ اس خط کے پہنچنے کے بعد اس نے اپنے محضوصین کو بلیا اور ان سے اس خط کا ذکر کرنے کے بعد
کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ مال مجھ سے چھین لیا جائے لہ\ذا میرا ارادہ ہے کہ میں  معاویہ کے پاس چل جاؤں جس پر
ان لوگو ں نے کہا کہ یہ تمہارے لیے باعث ننگ و عار ہے کہ اپنے قبیلے کو چھوڑ کر معاویہ کے دامن میں  پناہ لو چنانچہ
ان لوگوں کے کہنے سننے سے اس نے جانے کا ارادہ تو ملتوی کر دیا مگر اس مال کے دینے پر آمادہ نہ ہا جب حضرت
کو اس کی اطلع ہئی تو آپ نے اسے کوفہ طلب کرنے کے لیے حجرا بن عدی قندی کو روانہ کیا جو اسے سمجھا
بوجھا کر کوفہ لے آئے .یہاں پہنچنے پر اس کا سامان دیکھا گیا تو اس میں  چار لکھ درہم پائے گئے جس میں  سے تیس
ہزار حضرت نے اسے دیئے اور بقیہ بیت المال میں  داخل کردیئے .

No comments:

Post a Comment